دشمن تیرے جنگ جو لکھاری
ہمت نہ ہاریں صدر زرداری
راولپنڈی کی مصروف شہراہ مری روڈ سے گزرہ جائے تو ٹریفک کی بہتات میں اردگرد بہت سی دلچسپ چیزوں کا مشاہدہ کرنے کو ملتا ہے۔ ان میں سب سے دلچسپ مشاہدہ نئی تنظیموں کا قیام اوران کے مقاصد ہوتے ہیں۔ کچھ تنظیموں کے نام ایسے تھے مشرف لورز ایسو سی ایشن، بلاول لورز ایسو سی ایشن اور اب دو اشخاص نے مری روڈ کو صرر زرداری کی تصاویر سے سجا دیا ہے۔ ہر تصویر پر مختلف اشعار درج ہیں جن میں سے ایک میں نے شروع میں لکھ دیا ہے۔
اگرعدلیہ تحریک کو دیکھا جائے تو افتخار محمد چوھدری کے انکار کو کالے کوٹوں والے فرشتوں نے تحریک میں بدل دیا اورپھر سول سوسائٹی،سیاسی تنظیموں کی شمولیت نے وکلاکے ساتھ مل کر اس کو پروان چڑھایا۔ اس تحریک کو تباہ کرنےاور عوام کا جزبہ ختم کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں کی گئیں جن میں جزوی کامیابی حاصل کر لی گئی – تشدد اور مختلف حربوں کے بعد وکلاء کے سالانہ الیکشن میں ۳۳ فیصد وکلاء کو کامیابی کے ساتھ اس تحریک سے توڑ لیا گیا مگر تحریک ختم نہ ہو سکی جس کی بنیادی وجہ وکلاء کے بے پناہ خلوص اور ایثارکے بعد ایک آزاد میڈیا کا ہونا تھا۔ میڈیا جو حکومت وقت کے خلاف جہاد میں وکلاء کا شریک ہونے کے باعث عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔
صحافی برادری نے تشدد بھی سہا اورحکومت کے دوسرے حربوں کا بھی ڈت کر مقابلہ کیا۔ وکلاء کی طرح صحافی برادری کے بعض لوگ ادنٰی قیمت پربکے اور اپنی برادری کے خلاف استعمال ہوئے مگر ناکام رہے۔ تحریک کامیاب رہی اور اس کے نتیجے میں آزاد عدلیہ کے عظیم مقصد کے علاوہ تین بڑی کامیابیوں کا حصول ہوا۔
وکلاء کی صورت میں ایک پریشر گروپ
آزاد اورعوام کے اعتماد پر پورا اترتا ہوا میڈیا
عوام کا اتحاد اور اپنی طاقت کو پا لینا
ادنٰی اور مفاد پرست سیاستدانوں ، پاکستان مخالف عنا صر اور ان سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کے لیے اس کو قبول کرنا آسان نہیں تھا۔ ان تین عوامل کے ہوتے ہوئے وہ اپنے مقاصد کو نہیں پا سکتے تھے اس لیے ضروری تھا کے ان کا علاج کیا جائے۔ وکلاء کے اندر نا اتفاقی پیدا کی گئی جس کے لیے کالی بھیڑوں کا استعمال کیا گیا اور صحافی برادری کی کالی بھیڑوں کو ان کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا گیا۔ جس کے نتائج میں ہم وکلاء کو میڈیا سے متصادم اور اچھا تاثر رکھنے والے کالم نگاروں کی کردار کشی کے واقعات د یکھ رہے ہیں۔ اگر وکلاء منقسم ہو گئے، اور اچھے تجزیہ نگاروں کا تاثر خراب ہوا جس سے میڈیا پر عوام کا اعتماد ختم ہو گا تو اس کا فا ئدہ کس کو ہو گا؟ اور کیا اس نقصان کی تلافی کی جا سکے گی؟
صحافی برادری کو زیادہ مسائل نا تجربہ کار ساتھیوں نے دیئے۔ پرانے بکائو مال تو اپنے قلم سے اپنا نامئہ اعمال لکھ چکے اور افادیت کھو بیٹھے تھے، ان کی جگہ نا تجربہ کار اور ادنٰی خواہشات کی تکمیل میں مصروف نئے لوگوں نےلی۔ اور کچھ زعم تقوٰی کے شکار لوگ بھی اس میں شریک ہوئے کہ شیطان ہر انسان کو اس کی کمزوری سے پکڑتا ہے۔
مشرف لورز ہوں یا زرداری کی تصاویر لگانے والے، دونوں نےوقت سے فائدہ اٹھانے کی اپنی سی کوشش کی۔ دوکان میں وہی مال رکھا جاتا ہے جس کا گاہک ہو کہ تاجر کمزور دل اور نقصان اٹھانے کی صلاحت کا حا مل ہنیں ہوتا۔ انہیں بیماریوں سے کسی ایک کا شکار پاکستان میڈیا کے واچ ڈوگ ہونے کے دعویدار غلام مصطفٰی ہوئے۔
بینظیر بھٹو کے بہیمانہ واقعہ سے نزیر ناجی کے قصہ تک لوگوں کی دلچسپی نے غلام مصطفٰی کے ‘نان پرافٹ اورگنا ئیزیشن’ کو شہرت بخشی۔ نان پرافٹ اورگنا ئیزیشن کے دعویدار؛دعوٰی کرنے سے پہلے شاید گوگل ایڈز، بینر پرافٹ اور یوزر سبسکپرشن فیس کو بھول گئے۔ یا شاید میں نان پرافٹ اورگنا ئیزیشن کے اصول سے واقف نہیں اور جیو، جنگ، ایکسپریس سب نان پرافٹ اورگنا ئیزیشن ہی ہیں۔
جب اس نان پرافٹ اورگنا ئیزیشن کی نبض نزیرناجی صاحب کے قصے کے بعد پانچ میں سے چار گنا گر گئی اور ھچکولے لینے لگی تو شاید کسی کمزور لمحے میں اندر کے تاجر نے باہر کے واچ ڈوگ کو دبا لیا ہو گا اور دوکان میں ایسا مال ڈالنے کی تر غیب دی ہو جو بک سکے۔ اس مال کو سپلائی کرنے والا زعم تقوٰی کا شکار ہے یا کسی اور آرزو کی تکمیل میں مصروف ہے، اس کو خدا بہتر جانتا ہو گا مگر اخری تجزیئے میں یہ ایک سازش کے سوا کچھ نہی ہے۔ کون ،کون کس طرح اور کس غرض سے اس میں شریک ہے،جلد ہی سامنے آ جائے گا۔ غلام مصطفٰی کی اس بات کا کہ اس ساری انویسٹیگیشن کو وہ خود ہینڈل کر رہا ہے اس کے سوا کیا جواب ہو سکتا ہے کہ ‘کیا بات ہے آپ کی سات سمنرر پار بیٹٰھ کر ایسی انویسٹیگیشن۔۔۔۔۔آپ تو آئی ایس آئی کو پیچھے چھوڑ گئے’۔ انویسٹیگیشن آپ کو کسی نے دی ہے کم از کم اتنا سچ تو بول لیں بے شک اس کا نام نہ بتائیں یا پھر اس طریقہ کی وضاحت فرما دیں جس سے سات سمندر پار سے انویسٹیگیشن ہو جاتی ہے۔
محمد مالک صاحب میرے لیے اجنبی ہیں کہ میں اپنی زاتی مصروفیت کے سبب ان کے پروگرام نہیں د یکھ سکا اور ملاقات بھی آج تک نہیں ہی سکی۔ روف کاسرہ صاحب سے تعلق ان کے کالم تک ہےملاقات ان سے بھی آج تک نہِیں ہو پائی۔ مگر یہ ضرور جانتا ہوں کے وہ بکے ہوئے لوگوں سے تعلق نہیں رکھتے۔ روف کاسرہ جیسے لوگوں کی قیمت کیسے اور کتنی زیادہ لگا ئی جاتی ہے اس سے بے بہرہ لوگ ہی ان کو کرپٹ کہ سکتے ہیں۔یہ جاننے والا اور تجربہ کار صحافی کبھی بھی ان پر انگلی نہیں اٹھائے گاکہ جو شخص ہیروں میں تل سکتاہے وہ کوڑے کے دام اپنا مول کبھی نہیں لگوائے گا۔
میڈیا چینلز کا کاپی رائٹ مال جو مفت میں حاصل کیا گیا، پیسوں میں بیچنے اوراس کے نتیجے میں ملنے والی شہرت کے حامل نا تجرکار تاجرنے’ نان پرافٹ اورگنا ئیزیشن’ چلانے کا جو ‘جمہوری طریقہ’ اختیار کیا وہ پرویز مشرف سے بہت ملتا جلتا ہے۔ جب میرے والد محترم ہارون الرشید صاحب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایسا سوال پوچھا جس میں ان کی تعریف سے ابتدا تھی نہ ہی ان کے کسی کارنامے کا زکر تو ان کی تضحیک کی کوشش کی گئی اور اس کے بعد کسی پریس کانفرنس میں شمولیت نہ کرنے دی۔
جس بلاگر نے بھی سوال کر نے کی جرات کی اس کو بری طرح تضحیک کا نشانہ بنایا گیا کہ گویا
جس کو ہو جان و دل عزیز وہ اس کی گلی میں جائے کیوں
یا پھر کسی خطرناک سوال کی صورت میں کومنٹ بلکل ہی ڈلیت کر دیا گیا۔ محترم جب دوسرے شہر میں اپنی ‘ نان پرافٹ اورگنا ئیزیشن’ کے منافع سے پرسکون زندگی گزار رہے ہیں تو یہں ‘کرپٹ’ اپنی زندگی دائو پر لگا کرکبھی سوات کا دورہ تو کبھی بلوچستان جا رہے تھے۔
سات سمندر پار عیش و عشر ت کی زند گی گزارنے والا ساری زندگی سے مقتل میں کھڑے لوگوں کا درد کیا جانے؟ ویڈ یو میں جس طرح کی زبان کا استعمال کیا اور جس بازاری زبان کا استعمال اور غصے کا اظہار موصوف نے فرمایا، کیمرے کی عدم موجودگی میں یقینن بازاری گالیاں ہی دے رہے ہوں گے۔
ادنٰی اور مفاد پرست سیاستدانوں ، پاکستان مخالف عنا صر اور ان سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کو ہی غلام مصطفٰی صاحب کی کوششوں کا فائدہ ہو رہا ہے اس لیے یہ بات تو واضع ہے کہ آج کل پاکستان کی محبت کے دعویدار ان سے ہی فائدہ اٹھا رہے ہوں گئے مبارک ہو غلام مصطفٰی صاحب آخر کار آپ اپنے بھائی بندوں میں مل گئے۔ چلیے شکر آپ کی شناخت تو ہوئی
مامون الرشید

Dear Mamoon Ur Rasheed,
Congratulation for writing such a nice work. Mr. Ghulam Mustafa is a media thief. He is steeling and selling others copyrighted material without any permission.
He is unable to reply phone calls, unable to face questions about copy rights, Anyone can try himself calling him. He is a real media thief.
He will ask you your number for call back and then will your phone number to his masters PML (N) N for Nangi, Then they will try to locate you.
If Ghulam Mustafa have any answer to Media Copy Rights can he come up will some answers.
Shame on such a stupid investigative journalist who himself is a media thief.
I agree with Allah Ka Banda and Mamoon. Ghulam Mustafa and his nokar mbokhari (whom GM pays 10 pounds per month) are two pets of Ahsan Iqbal and Pervez Rasheed. GM (i.e. Cyber Jeera Blade) and mbokhari (i.e. boodar and khaari) illegally collect their participants’ email addresses and other contact details and later try to blackmail them on various pretexts. The best thing is to boycott PkPolitics and promote other healthy websites such as our own PakPoint.com
@Allah Ka Banda
He already has my phone number. But dont worry he wont have the courage to do it with me.
Ghulam Mustafa answer to anything is simple “We should believe him like Quran”
@SnrCtzn
I read what they do to you there, They pretty much gang up on you. They have the mentality of mob
Dear Mammon Ur Rasheed,
Thanks for submitting your article to pakpoint.com At PakPoint we are democratic platform for every one and it is clear by the comment policy written below
“Comment Policy: It is a very difficult to moderate all comments live. We believe in freedom of expression. So we do not like to stop anyone’s opinion. But to bring a little sanity in the debate it is recommended that do not use abusive, off-topic, do not use slang language, do not make racial attacks, Please carry on a civilized discussion.
”
So any one is allowed to express any thing as we believe in freedom of expression and personal privacy for every one.
Dear SnrCtzn
You are welcome at pakpoint.com , Inshallah you will feel like a home. We may not be a very big website but we have a big heart and we are ready to listen comments against us as well.